اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی ماہی گیری تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل برائے مصنوعات کے معیار کی بہتری کے امور نے کہا ہے کہ 1400 کے شمسی سال میں ماہی گیری مصنوعات کی برآمدات کی موثر مانگ کی صورت میں ریل کا بنیادی ڈھانچہ استعمال کیا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار "عیسی گلشاہی" نے پیر کے روز ماہی گیری مصنوعات کی بنیادی ڈھانچوں کی توسیع سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ماہی گیری مصنوعات کی برآمدات کی موثر مانگ کی صورت میں ریل کا بنیادی ڈھانچہ استعمال کرنے کے خواہاں ہیں۔
گلشاہی نے کہا کہ ایرانی ماہی گیری کی مصنوعات کو ریل انفراسٹرکچر کے ذریعے ملک کے شمال (آستارا) سے جمہوریہ آذربائیجان اور روس، شمال مشرق سے ترکمانستان، قازقستان اور چین، مغرب سے ترکی اور شام تک برآمد کرنے کا امکان ہے۔
انہوں نے ماہی گیری مصنوعات کی برآمدات کیلئے ہوائی نقل و حمل کے استعمال سے متعلق وضاحتیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعات کی ہوائی نقل و حمل مہنگی ہوتی ہے اور یہ عام طور پر تازہ اور اعلی قدر کی مصنوعات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
گلشاہی نے کہا کہ ہم تازہ مچھلی اور کیکڑے کی مصنوعات خاص طور پر کیویار کو عرب ممالک اور بعض اوقات روس میں برآمدات کیلئے ہوائی نقل و حمل کے راستوں کا استعمال کرتے ہیں۔
ایرانی ماہی گیری تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل برائے مصنوعات کے معیار کی بہتری کے امور نے کہا کہ ماہی گیری کی تازہ مصنوعات بھی سمندری راستوں کے ذریعے عرب ممالک کو برآمد کی جاتی ہیں۔
واضح رہے کہ رواں شمسی سال کے ابتدائی تین مہینوں میں ایران میں 28 ہزار ٹن مختلف قسم کی ماہی گیری مصنوعات کو مختلف ممالک میں برآمد کیا گیا ہے جس میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں وزن کے لحاظ سے 12 فیصد اورمالیت کے لحاظ سے 9 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اسی عرصے کے دوران تقریبا 52 ملین ڈالر کی مالیت پر مشتمل مختلف قسم کی ماہی گیری مصنوعات کو مختلف ممالک میں برآمد کیا گیا ہے جن میں سے 85 ٹن سجاوٹی مچھیلوں کو عراق، ترکی اور یورپ کی منڈیوں میں برآمدات ہوئی ہیں۔ جس میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں وزن کے لحاظ سے 60 فیصد اور مالیت کے لحاظ سے 200 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲